جمعرات, اگست 24, 2017,
ہوم / کالم ومضامین / شہادت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ

شہادت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ

نام و نسب:آپ کا نام ـنامی اسم گرامی علی ، لقب المرتضی ،کنیت :ابو تراب ، والد کا نام ابو طالب دادا کا نام عبدالمطلب اور والدہ کا نام فاطمہ بنت اسدہے۔ والد کی طرف سے آپ کا پورا سلسلہ نسب یہ ہے:
’’علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی۔چونکہ ابو طالب کی شادی اپنے چچا کی لڑکی سے ہوئی تھی اس لئے حضرت علی ص نجیب الطرفین ہاشمی اور آنحضرت اکے حقیقی چچا زاد بھائی تھے۔
ولادت با سعادت :بعض اقوال کے مطابق حضرت علی المرتضی ص کی ولادت مکہ مکرمہ میں عام الفیل کے سات سال بعد ہوئی اور بعض سیرت نگار لکھتے ہیں کہ نبی اقدس ا کی ولادت شریف کے ۳۰ سال بعدعلی المرتضی ص پیدا ہوئے اور یہ بھی علماء فرماتے ہیںکہ: ’’ آنجناب کی ولادت بعثت نبوی اسے دس برس قبل ہوئی تھی۔‘‘
متعدداقوال کے اس اختلاف کے پیش نظر آپ ص کے سن ولادت کے متعلق کوئی صحیح فیصلہ نہیں کیاجا سکتااور جن ایام میں آپ کی ولادت ہوئی بقول امام نووی آپ کے والد ابو طالب کہیں باہر گئے ہوئے تھے اور اپنے دولت خانہ پر موجود نہ تھے بعد از ولادت آپ کی والدہ فاطمہ بنت اسد نے آپ کا نام اپنے والد کے نام پر اسدرکھا،جب ابو طالب نے سفر سے مراجعت (واپسی) کی توانہوں نے اپنے فرزند کا نام علی رکھا۔ (الاصابہ :۲/۵۰۱،شرح النووی:۲/۱۱۵ ،تاریخ الخمیس: ۲/ ص۲۷۵ )
حلقہ بگوشِ اسلام :حضرت علی ص کی عمر مبارک ابھی دس سال ہوئی تھی کہ آپ کے شفیق مربی آنحضرت اکو دربارِ خداوندی سے خلعت نبوت سے نوازا گیا،چونکہ حضرت علی ص آپ ا کے ساتھ ہی رہتے تھے اس لئے ان کو اسلامی اور مذہبی مناظر سب سے پہلے نظر آئے، چنانچہ ایک روز آنحضرت ااور ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کومصروف عبادت دیکھا، اس مؤثر نظارے نے اثر کیا،طفلانہ استعجاب کے ساتھ پوچھا: ’’ آپ دونوں کیا کر رہے تھے؟سرور کائنات انے نبوت کے منصب گرامی کی خبر دی اور کفر و شرک کی مذمت کرکے توحید کی دعوت دی، حضرت علی صکے کان ایسی باتوں سے آشنا نہ تھیـ ،متحیر ہو کر عرض کی کہ : ’’اپنے والد ابوطالب سے دریافت کروں اس کے متعلق؟چونکہ سرور کائنات اکو ابھی اعلان عام منظور نہ تھا،اس لئے فرمایا : ’’اگر تمہیں تامل ہے تو غور کرو!لیکن کسی سے اس کا تذکر ہ نہ کرنا، آنحضرت اکی پرورش سے فطرت سنور چکی تھی،توفیق الٰہی شامل ہوئی، اس لئے زیادہ غور و فکر کی ضرورت پیش نہ آئی اور دوسرے ہی دن بارگاہ نبوت ا میں حاضر
ہو کرمشرف بااسلام ہوئے۔ (سیر الصحابہؓ :۱/۲۱۶)
فضائل ومناقب:حضرت علی المرتضیٰ آنحضرت ا کے گھر تربیت کے لئے تشریف لائے ،اس وقت آپ کی عمرمبارک دو سال تھی،وفات رسول ا کے وقت آپ ۲۹سال کے تھے اس طرح۲۷ سال تک آپ اسلام کے اولین مسلمانوں میں تیسرے نمبر پر تھے۔
تمام قرآنی آیات جن میں صحابہ کرام ثکے سابقین واولین گروہ کے فضائل ہیں، ان تمام سے آپ کی فضیلت آشکارا ہو رہی ہے ، جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت، رضامندی اور اعلیٰ قسم کی نعمتوں کی بشارت دی گئی ہے اس میں آپ براہِ راست شامل ہیں۔
چنانچہ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’ترجمہ:جو لوگ اوّل قبول اسلام کر نے والے ہیںسب سے پہلے ہجرت کرنے والے ہیں،سب سے پہلے مدد کرنے والے ہیں جو ان کے پیرو کار ہوئے ان کے واسطے اللہ نے باگات اور بہتی نہریں تیار کر رکھی ہیں۔‘‘
اسی طرح جس آیت کریمہ میں خلافت کا وعدہ کیا گیا ہے اس میں بھی آپ براہِ راست شامل ہیں ۔نیز صحابہ کرام ثکے بارے میں کامیابی ،کامرانی اور رشد و ہدایت کا کھلا اعلان ہے جس کے باعث یہ تمام احکامات اور اعلانات آپ کی عظمت پر شاہد عدل ہیں۔
ہجر ت مدینہ :آنحضرت اکی زندگی کا مشکل ترین دور بعثت کے بعد ۱۳ سالہ مکی دورتھا،اس دور میں آپ ا پر مصائب کو صحابہ کرام ثسمیت اُتارا گیا، صحابہ کرام ثکو جاں گسل عواقب اور المناک تکالیف کا سامنا کرنا پڑا،بالآخر اللہ تعالی کی طرف آپ اکو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم ہوا،اس موقع پرآپ انے رات کے وقت جس مکان سے ہجرت کا آغاز کیاوہ بھی تاریخ اسلام کا انو کھا عنوان ہے،شب ہجرت آپ ا نے اپنے بستر پر حضرت علی المرتضی صکو سلا دیا، لوگوں کی امانتیں بھی آپ کے سپرد کیں،اور آپ ا خودحضرت ابوبکرص کو ان کے گھر ساتھ لے کرمدینہ منورہ روانہ ہو گئے، حضرت علی المرتضیٰ ص آپ اکے حکم کے مطابق مکہ مکرمہ تین روز قیام کرنے کے بعد مدینہ منورہ روانہ ہو گئے،جب حضرت علی المرتضیٰ صمدینہ منورہ پہنچے تو اس وقت آپ قبا ء میں کلثوم بن الہدم کے مکان پر قیام پذیرتھے، حضرت علی المرتضیٰ صیہیں سے آپ کے قافلے میں شریک ہوگئے۔ (البدایہ والنہایہ: ۳/ ص ۱۷۷،طبقات ابن سعد:۲۲، تاریخ طبری: ۳/ ص۱۰۶)
حضرت فاطمہؓ سے نکاح :ماہِ رجب ۲ ہجری حضرت علی المرتضیٰ صکانکاح سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہاکے ساتھ آنجناب انے کر دیا تھااور نکاح کا مہرچار صد مثقال مقرر کیا گیا۔ (سیرت علی المرتضیٰ ص)
زوجین کی عمریں:علماء نے لکھا ہے کہ اس وقت حضرت علی المرتضیٰ صکی عمراکیس(۲۱) یا(۲۴) برس کی تھی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی عمرعلیٰ اختلاف الاقوال پندرہ(۱۵)یا اٹھارہ (۱۸) یاانیس(۱۹)سال کے قریب تھی ۔ (شرح مواہب لدنیہ :۲/۳ )
انعقاد ِنکاح کے لئے یہ با برکت اجتماع بالکل سادہ،تکلفات زمانہ سے مبراء اور رسومات مروجہ سے خالی تھا،اس مبارک نکاح کی تقریب میں سیدنا ابو بکرصدیق صسیدنا فاروق اعظمص سیدنا عثمان ذوالنورین صاو ر دیگر صحابہ کرام ثشامل نکاح اور شاہدنکاحتھے، اہل سنت و شیعہ علماء دونوں نے ان بزرگوںکی شمولیت و شہادت نکاح کو درج کیا ہے اور خطبہ نکاح جناب نبی اکرم انے پڑھا۔ (کشف الغمہ فی معرفۃ الائمہ :۳۴۸،زرقانی: ۲/۷،الریاض النضرۃ : ۲/۲۴۱)
حضرت علی المرتضیٰ صاور خلافت صدیقیص!
نبی اکرم اکے وصال کے بعدعہد صدیقی اسلامی تاریخ میں سب سے اہم دور ہے ،اس وقت احیائے دین اور بقائے ملت کے استحکام کی اشد ضرورت تھی، ان مراحل میں دیگر صحابہ کرام ثکے ساتھ ساتھ حضرت علی المرتضیٰ صنے بھی گراں قدر خدمات سر انجام دیںان میں سے یہاں پہلے ہم چند ذکر کرتے ہیںمثلا ً:
1-مرکز اسلام مدینہ طیبہ کی نگرانی اور سیدنا علی صکا کردار۔
2-مقام ذوالقصہ کی طرف خلیفہ اول کا اقدام اور علوی تعاون۔
3-خلیفہ اول کے ساتھ علوی روابط۔
4-تقسیم اموال و غنائم میں حضرت علی صکی تولیت۔
5-اہم دینی مسائل اور دیگر دینی امورمیں آپ سے مشاورت۔
6-تدوین قرآن کے کارناموں کی تائید و توثیق۔
7-اموال غنائم کا حصول اور حضرت علیص ۔
خلاصہ یہ ہے کہ حضرت علی صصدیقی دورمیں اسلام کے تمام اہم امور میں خلیفہ اول سیدنا صدیق اکبرص کے ساتھ رہے اور ان کے ساتھ پوری طرح متفق رہے اور ان کے کارناموں میں ان کے ساتھ متحد و معاون رہے، حضرت علی صکی قولی و فعلی زندگی عہد صدیقی میںواضح طور پر شہادت دیتی ہیںکہ اس دور کے تمام دینی وانتظامی مسائل بالکل درست تھے اور حضرت علی المرتضیٰ ص کا ان کے ساتھ کامل اتفاق تھا ،نیزحضرت ابو بکر صدیقص کی خلافت ان کے نزدیک باطل نہیں تھی بلکہ برحق تھی ،جو حضرات حضرت علی صکے ان اقوال وافعال کوتقیہ پر محمول کرتے ہیںاور مجبوری ومصلحت بینی کی زندگی قرار دیتے ہیںانہوں نے حضرت علی ص کے ارفع مقام کو اور ان کے اعلیٰ کردار کو گئی گنا اعتراضات کے ساتھ داغ دار کر دیاہے۔ (سیرت علی المرتضیٰؓ:ص۱۶۳ )
حضرت علی ؓ حضرت معاویہؓ کی نظرمیں:حضرت امیر معاویہ ص حضرت علی صکو خلافت کا اہل سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ قاتلین حضرت عثمان صحضرت علی المرتضیٰ ص کی فوج مین گھسے بیٹھے ہیں،حضرت علی المرتضیٰ صاگر قصاص لیں تو اہل شام میں سب سے پہلے حضرت علی المرتضیٰ صکی بیعت میں کروں گا،حضرت امیر معاویہ ص کی سیاسی بصیرت اورفکر ونظر سے کون انکار کر سکتا ہے جب ان کے ذہن میں تھا کہ حضرت علی المرتضیٰ صمیں تمام شرائط خلافت موجود ہیں، صرف ایک مطالبہ ان کی بیعت میں حائل ہے تو اب حق کسے پہنچتا ہے کہ وہ حضرت علی المرتضیٰ صکے بارے میں کہے کہ آپ صسیاسی حیثیت سے کمزورتھے اور آپ صکا سیاسی وزن کم تھا؟ حضرت ابو الدردا ء صاور حضرت ابو امامہ صجب فریقین میں رفع نزاع کی کوشش کر رہے تھے تو آپ صنے انہیں کہا کہ حضرت علی المرتضیٰ صکو میری طرف سے جا کر بتلا دو آپ کہیںکہ حضرت عثمان صکے قاتلوں کو سزا دیں پھر پہلا میں ہوں گاجو اہل شام میں سے ان کی بیعت کروں گا،آپ(حضرت معاویہص) جب کبھی حضرت علی المرتضیٰ صکا ذکر کرتے تو انہیں ابن عمی(میرے چچازادبھائی)کہہ کر ذکرفرماتے۔ (البدایہ والنہایہ: ۷ /۲۵۳)
دورِ خلافت:حضرت علی المرتضیٰ صکا دورِ خلافت ( ۳۵ ؁ھ تا ۴۰ ؁ھ) ۴ سا ل ۹ ماہ۲۲ لاکھ مربع میل کے وسیع وعریض خطے تک محیط رہا،آپ صکے دور میں مسلمانوں کے مابین حضرت عثمان ذوالنورین صکے قاتلوں سے انتقام لینے کے لئے جنگ جمل اور جنگ صفین کے روح فرسا واقعات پیش آئے، تا ہم حکومت وخلافت مصطفوی کی اصل روح ،عدل اجتماعی اور مساوات حقیقی، خلیفہ چہارم کے دور حکومت میں مصطفوی شریعت اور خلفائے ثلاثہ ثکے منہاج پر قائم ہے ،آپ صنے خلافت اسلامیہ کے بارے میں جس درخشندہ عہد کو فروغ دیا وہ حضرت ابوبکر صدیق صحضرت عمر فاروق صاور حضرت عثمان ذوالنورین صسے مشابہت اور مطابقت رکھتا ہے۔
قاتلانہ حملہ اورشہادت:خوارج نے حضرت امیر معاویہ بن ابو سفیان صحضرت عبداللہ بن زبیرص اور حضرت علی المرتضیٰ صکے قتل کا منصوبہ بنایا اور ایک ہی دن مقرر کیا،منصوبہ سازوں نے حضرت علی المرتضیٰ صکے قتل کا ذمہ عبد الرحمن ابن ملجم پر ڈالا، اس بد بخت نے رمضان المبارک کے مہینے میں ۲۱ رمضان المبارک صبح فجرکے وقت امیر المؤمنین اسد الغالب ،حیدر کرارسلسلہ تصوف کے امام ،داماد نبی ا حضرت علی المرتضیٰ صکو کوفہ کی مسجدمیں نماز کے لیے جاتے ہوئے شہید کر دیااور حضرت علی المرتضیٰص اپنے ان (حضرت عمرصاورحضرت عثمان ص)دوپیش رؤںکی طرح اسلام کے خلیفہ چہارم بھی جام شہادت نوش کر کے سرفرازی کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو گئے۔ (البدایہ والنہایہ :۷/۳۲۶،مجمع الزوائد:۹/۱۳۹،طبقات ابن سعد :۳/۲۳)
٭٭…٭٭

Comments

comments