پیر, جون 26, 2017,
ہوم / اہم خبریں / ملز کیسے بن گئیں؟ پیسہ کہاں سے آیا؟ شہباز شریف سے 3گھنٹے پوچھ گچھ

ملز کیسے بن گئیں؟ پیسہ کہاں سے آیا؟ شہباز شریف سے 3گھنٹے پوچھ گچھ

اسلام آباد (بیورو رپورٹ) وزیراعظم نواز شریف کے بعد چھوٹے بھائی شہبازشریف بھی پاناما کیس کی تحقیقات کے لیے جے ائی ٹی کے روبرو پیش ہوگئے حدیبیہ پیپر مل گلف سٹیل مل اور اس کی منی ٹریل کے بارے میں3گھنٹے سے زائد پوچھ گچھ کی گئی پیشی کے موقعہ پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے وزیر داخلہ چوہدری نثار اور وزیر خزانہ اسحق ڈار وزیراعلی پنجاب کے ہمراہ ائیجوڈیشل اکیڈمی چھوڑکر واپس لوٹ گئے لیگی کارکن منع کرنے کے باجودہ جوڈیشل اکیڈمی پہنچ گئے تفصیلات کے مطابق جے ائی ٹی کے سامنے پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں نے اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا ہے ایک مرتبہ نہیں کروڑ دفعہ احتساب کرو یہ مٹی ہماری ہے یہ ہمارا پانچواں احتساب ہو رہا ہے مگر ہم پر کرپشن کا کوئی کیس نہیں نہ سرکاری خردبرد کا الزام ہے اور نہ ہی آئندہ کبھی ہوگا۔ شہباز شریف نے کہاہے کہ وزیر اعظم اور انہوںنے جے آئی ٹی میں پیش ہو کر بتادیا ہے کہ اقتدار پر شب خون مارنے والوں اور جمہوری لوگوں میں کیا فرق ہے ٗ ہمارا پانچواں احتساب ہورہا ہے ٗ ہم پر کوئی سر کاری خورد برد اور کرپشن کا کیس نہیں ہے ٗمیں نے کمر درد کا بہانہ کر کے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار نہیں کیا اور نہ ہی کسی ہسپتال داخل ہو ا ٗاتفاق فائونڈری کے قومیائے جانے کے بعد ہم نے پونے چھ ارب روپے کے قرضے واپس لوٹائے ٗخدا کا خوف کھائیں، مالک سے ڈریں ایک نہیں کروڑوں بار حساب لیں انہوں نے کہا کہ یہ بات سامنے رہنی چاہئے کہ شریف خاندان کا احتساب پہلی بار نہیں ہو رہا، 1972ء میں بھٹو کے ہاتھوں پہلا احتساب اتفاق فائونڈری کو قومی تحویل میں لے کر کیاگیا، یہ اتفاق فائونڈری بھائیوں نے مزدوروں کی طرح کام کر کے کھڑی کی، 30ء کی دہائی میں اتفاق فائونڈری کا سفر شروع ہوا، 60ء کی دہائی میں اس کا کام اپنے عروج پر تھا، یہ لوہے اور زرعی آلات تیار کرنے والا بڑا ادارہ بن گیا، 65ء اور1971کی جنگوں میں دفاعی سازوسامان دینے کا اعزاز پایا ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میں ایسے باپ کا بیٹا ہوںجو امین اور دیانتدار تھا اورجسے بینک آنکھیں بند کر کے قرض دیتے تھے، محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں 1988ء سے 90ء تک دوسری بار ہمارا احتساب ہوا جس میں ہمارے خاندان کا کاروبار تباہ کیا گیا، بے نظیر بھٹو کے دور میں میرے والد کو بھی گرفتار کیا گیا، احتساب کر کے ہمارا ذاتی کاروبار تباہ کیا گیا، تیسری مرتبہ 1993ء سے 96ء کے دوران احتساب ہوا ، ہماری صنعتوں کی چمنیوں سے دھواں نکلنا ختم ہو گیا، چوتھی بار احتساب آمر مشرف کے دور میں ہوا، اس کے دور میں کڑا احتساب کیا گیا، مجھے اور نواز شریف کو ہتھکڑیاں لگائی گئیں، اب پانچویں مرتبہ ہمارا احتساب ہو رہا ہے، ہم پہلے بھی اور اب بھی اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کر رہے ہیں، ہمیں بتایا جائے کہ کیا کوئی سرکاری خورد برد کا کوئی ثبوت ہے، ہم نے میٹرو ، اورنج ٹرین، اربوں ڈالر کے پاور پراجیکٹس پر کام شروع کر رکھا ہے کیا اس میں کوئی کرپشن سامنے آئی، ہم نے ان منصوبوں میں 200 ارب روپے کی بچت کی جو کہ قوم کی خدمت ہے، ہم احتساب کیلئے حاضر ہیں۔

Comments

comments